Posts

مسیح منتظر میرے

میرے بے کیف لمحوں میں مسیح منتظر بن کے   رحم کرنا، پلٹ آنا میرے بے فیض ہونٹوں کو سبیلِ لب سے تر کر کے دوا دینا  بتا دینا ! جب آنکھیں زرد ہو جائیں تمھاری دید کے قطروں کی آمیزش میں ان پتھروں پہ رکھ دوں گا میرے دل پر کسی بھی بوجھ کے  آثار دیکھو تو مسیح میرے ! شِفا کے ہاتھ رکھ دینا وفا مٹھی میں کر لینا سنو ! گر ضبط کی ہچکی میرے لفظوں پہ بندھ باندھے تو  میرے ہونٹ پہ لکھے لاحاصل مرثیے پڑھنا سنو میرے مسیح منتظر ! وجود مضطرب کی ٹھنڈ تمھاری ذات میں اترے تو  ہنس دینا یہ کہہ دینا  مسیح میرے وفائیں گنگناتی ہیں تو نوحے رقص کرتے ہیں

بلا عنوان

حقیقت حال چاہے سماج کی ہو یا فرد کی،سب سے بڑا صدق یہ ہے کہ تغیر عالمی سچائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر قسم کی تبدیلی اسی سچائی کے حصار میں پنپتی ہے۔ اس بنیادی اصول سے بغاوت خود فریبی تو ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔نکتہ آموزی کیلئے تغیر کی اس رمز کی پرتیں کھولیں تو یوم معلوم پڑتا ہے کہ عمومی تغیر میں مزاج، رویے اور فکر و عمل میں تبدیلی آتی ہے۔ شروع شروع میں فلسفہ جمود بودا ہوتا ہے پھر وقت کی گرد تہہ در تہہ چڑھتی جاتی ہے اور تغیر کی کونپلیں کھل اٹھتی ہیں۔ ایک دوسرا تغیر بھی ہے جو فقط کہنے کو تغیر ہوتا ہے، در حقیقت اسے تحلیل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ ماورائی قسم کا تغیر ہے، جس میں نہ صرف مزاج، رویے اور فکر و عمل اپنی جگہ چھوڑ جاتے ہیں بلکہ وجود بھی وہاں نہیں رہتا جہاں آپ ہوتے ہیں یا رہنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے مادہ تحلیل ہوتے ہوتے ایسے چھوٹے چھوٹے اجزاء میں منتہٰی ہوتا ہے جو مزید تحلیل نہیں ہو سکتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان تحلیل کے عمل سے اسطرح گزرتا ہے کہ اپنے ہی وجود کی نفی کر دیتا ہے، سب کچھ آن ہی آن میں صفر درجے پر آ پہنچتا ہے۔یہاں سے آگے ذات کی تعمیر شروع ہوتی ہ...
بیچارے ، ، ، غم کے مارے،،،، رن مرید تخلیق: عمیر احمد رانا . . . کہتے ہیں کہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اسکی ساخت میں دباؤ کے خلاف مزاحمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ عورت کو سیدھا نہیں کیا جا سکتا ، ذیادہ زور لگا تو یہ ٹوٹ جائے گی۔ پسلی سے نکلی یہ مخلوق جسے ادبی زبان میں صنف نازک، النصف الجمیل اور پتہ نہیں کس کس دیومالائی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ، اگر ویسے ہی سیدھی ہو جائے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بندے کے روئیں روئیں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں۔طوعاً و کرھاًبندہ وہ کرنے لگ جاتا ہے جسکا حکم اسکی نصف الجمیل صادر فرماتی ہے یا ہماری زبان میں کہیے تو بیچارہ، غم کا مارا’’لائی لگ ‘‘بن جاتا ہے۔ویسے مردوں پر یہ ظلم کوئی آج کے زمانے کی اختراع نہیں ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ عور ت ایک دم جاگی اور اس نے آن ہی آن میں سب کچھ تہ دست کر لیا۔ یہ افسانہ تو باوا آدم کے زمانے سے چل رہا ہے ۔ ایسا کہیں تو قدرے بہتر ہو گا کہ مردوں میں لائی لگ ہونے کی بیماری جینیاتی ہے جو انہیں اپنے جد امجد سے ملی ہے۔ بھلا ! کیا ہو جاتا اگر باوا آدم اماں حوا کی باتوں میں آن...

’’ حتمی معر کہ ‘‘

اس پوری کائنات میں انسان سے بڑھ کر بے بس، شاید ہی کوئی اور مخلوق ہو۔ کس طرح چند ثانیوں میں کایا پلٹ جاتی ہے، کیسے تخت و تاج یکلخت کاسہ بن جاتے ہیں۔ ادائے بے نیازی، غروراور تکبرآن ہی آن میں راکھ ہو جاتے ہیں۔ توقع، تکیہ، فخراور مان اچانک خاک ہو جاتے ہیں۔ریشم و اطلس سے بُنے خواب یوں ریزہ ریزہ ہوتے ہیں کہ ۔۔۔حد گمان بھی بعید از دسترس معلوم پڑتی ہے۔ گوشت ، پوست اور ہڈیوں کے جال میں پوشیدہ انسان کا وجود مٹھی بھر لوتھڑے کے قدموں میں آ گرتا ہے۔ جگر سے نکلا آگ کا گولہ سینے سے ہوتا دل کے پہلو میں توقف کرتا ہے، جلن بے قابو ہو تی ہے تو یہی آتش گیر گولہ ذرا سا بلند ہو کر انسان کی حد ادراک کو چھونے کی کوشش کرتا ہے، برداشت کو امتحان میں ڈال کرشعور کا صبر اور حوصلہ کسوٹی پر رکھتا ہے۔ دباؤ بڑھتا ہے، ناقابل برداشت ہوتا ہے، ،،،نگاہیں فرار کے راستوں پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ سماعت اندر کے شور سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہے۔ بالآخر ! دل سے آہ نکلتی ہے، درد جیت جاتا ہے،صبر کو مات ہوتی ہے۔ رکو ! یہ طوفان، یہ زلزلہ، یہ شکست و ریخت کتنی ہی پراثر اور طالع مند کیوں نہ ہو، شعور کی زرہ اور اسکی بنیادیں ا...

’’خاکم بدہن‘‘ از’’مشتاق احمد یوسفی‘‘

’’خاکم بدہن‘‘ از’’مشتاق احمد یوسفی‘‘ سوانح حیات مشتاق احمد یوسفی ایک بلند پایہ طنز و مزاح نگار ہیں۔وہ 4 اگست 1923 میں راجھستان کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم راجپوتانہ سے حاصل کی۔آگرہ یونیورسٹی سے بی اے اور علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے فلسفہ اور ایل ایل بی ڈگری لی۔تقسیم کے بعد ان کا خاندان کراچی میں سکونت پذیر ہوا۔1950 میں مسلم کمرشل بینک میں تعینات ہوئے اور ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے تک پہنچے۔1965 میں الائیڈ بینک بطور مینیجنگ ڈائریکٹر جوائن کیا۔1974 میں یونائیٹڈ بینک کے صدر بنے۔1977 میں پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئر مین بنے۔آجکل لندن میں قیام پذیر ہیں۔اپنی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلی ادبی ایوارڈز،ستارہ امتیاز اورہلال امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔ فن یوسفی: اگر مزاحی ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کر سکتے ہیں تو وہ یوسفی ہی کا نام ہے۔طنز و مزاح نے تو مشتاق یوسفی کی تحریروں میں انتہائی عروج کی منزل طے کر لی جو شاید اردو ادب کو میسر ہو سکتی تھی۔ یوسفی کی رسائی اردو نثر کی معراج تک ہوئی ہے۔ یہ معراج نثرنگاری کی معراج بھی ہے اور طنز و مزاح کی معراج...
سجدہ  شکر  کریں  گے  سر کٹا  دیں گے جب ترے شہر دو آراء سے راہگزر ہو گا جاگ اٹھے گی نئی صبح  شہر بسمل  میں  منصف وقت سے حاکم  نہ در گذر  ہو  گا                                (عمیر احمد رانا)
جن  کو  خوابوں  کی  دہلیز  پہ  دیکھا  تھا کبھی  اب   حقیقت  میں  نظر  آئیں  تو  ڈر  جاتا  ہوں دشت میں بکھرے تری یاد کے ذروں سے کبھی اب جو گھر جائوں تو پھر لوٹ کے گھر جاتا ہوں زندگی دھوپ تھی، برسات تھی، ست رنگی تھی اب جو سوچوں میں یہ منظر، تو بکھر جاتا ہوں زندگی  گمشدہ   راہبر   کی   طرح   لگتی   ہے جانے  کس  رخ  سے  اترا اور  کدھر جاتا ہوں تجھ   سے  وابستہ   تعلق  کو   نبھانے   کیلئے تیری  یادوں   کے  سمندر  میں  اتر  جاتا  ہوں یہ تیرے ہجر کے صدموں  کا سبب  ہے جاناں زندہ   رہنے   کیلئے  روز  ہی   مر  جاتا  ہوں (عمیر احمد رانا)