بلا عنوان
حقیقت حال چاہے سماج کی ہو یا فرد کی،سب سے بڑا صدق یہ ہے کہ تغیر عالمی سچائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر قسم کی تبدیلی اسی سچائی کے حصار میں پنپتی ہے۔ اس بنیادی اصول سے بغاوت خود فریبی تو ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔نکتہ آموزی کیلئے تغیر کی اس رمز کی پرتیں کھولیں تو یوم معلوم پڑتا ہے کہ عمومی تغیر میں مزاج، رویے اور فکر و عمل میں تبدیلی آتی ہے۔ شروع شروع میں فلسفہ جمود بودا ہوتا ہے پھر وقت کی گرد تہہ در تہہ چڑھتی جاتی ہے اور تغیر کی کونپلیں کھل اٹھتی ہیں۔ ایک دوسرا تغیر بھی ہے جو فقط کہنے کو تغیر ہوتا ہے، در حقیقت اسے تحلیل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ ماورائی قسم کا تغیر ہے، جس میں نہ صرف مزاج، رویے اور فکر و عمل اپنی جگہ چھوڑ جاتے ہیں بلکہ وجود بھی وہاں نہیں رہتا جہاں آپ ہوتے ہیں یا رہنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے مادہ تحلیل ہوتے ہوتے ایسے چھوٹے چھوٹے اجزاء میں منتہٰی ہوتا ہے جو مزید تحلیل نہیں ہو سکتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان تحلیل کے عمل سے اسطرح گزرتا ہے کہ اپنے ہی وجود کی نفی کر دیتا ہے، سب کچھ آن ہی آن میں صفر درجے پر آ پہنچتا ہے۔یہاں سے آگے ذات کی تعمیر شروع ہوتی ہے۔
اکثر یہ تغیرتحلیل قوی کا نتیجہ ہوتا ہے جس میں نہ چاہتے ہوئے بھی، مزاحمت کرتے ہوئے بھی وجود تحلیل ہو جاتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آمادگی اس تحلیل کے جنم کا وسیلہ بنتی ہے۔ اس ماورائی تغیر کی نہج پر پہنچ کر تدبیر سے وجود کی تہہ کھولی بھی جا سکتی ہے مگر اس میں پنہاں درد کا درماں کسی تدبیر میں نہیں ہوتا۔ ویسے بھی عارفینِ کامل کا ماننا ہے کہ جب تک انسان گم کردہ ِقلب نہ ہو، خودی کے خیال سے مبرا نہ ہو، اس منزل کا راہی تو کیا، اسکی جانب بڑھنے والے ایک پائیدان پر بھی قدم نہیں رکھ سکتا۔
عمومی الفاظ میں کہیں تو اس فکری نہج پر پہنچ کر انسان اپنے وجود کے جغرافیائی تقدس کو پامال کرتا ہے اور اپنی فرار کو پرستش کا رنگ دے کر کسی نروان کی کھوج میں جا بیٹھتا ہے۔ یہ کھوج اسے اپنی زندگی، اپنے وجود سے بیزار کر دیتی ہے۔ نہیں معلوم کب تک یہ کھوج جاری رہے، کب بجلی کوندے اور کب کوئی سدھارتھ سے بدھا ہو جائے۔
تحلیل کی دوسری صورت میں کوئی دیوتا یا اوتار خود بھکشو کے وجود پہ یوں واردہوتا ہے کہ شوق کا مارا معتقد بچھ بچھ جاتا ہے۔ دِل تلسی دَل بن جاتا ہے اور دیوتا کے عشق میں سارا وجود مانی ہوئی نذر کی مانند پرساد بنا کر تحلیل کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت مجاز بن کر سامنے آ بیٹھتی ہے، وجود میں جشن کے نقارے بج اٹھتے ہیں، ہر رات پورے چاند کی رات بن جاتی ہے۔ گویا ہر شب جشن ماہتابی پر منتج ہوتی ہے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس بات کا احساس، اسکا ادراک ہی نہیں ہوپاتا کہ اپنی اپنی جگہ پر ہوتے ہوئے بھی کب کون حصار سے نکلا اور کب تحلیل ہو گیا۔ زکی سے زکی انسان کو بھی معلوم نہیں پڑتا کہ کب کیسے اور کیوں کسی نے انکی زندگی اپنے حصارمیں رہتے ہوئے بھی اپنی مٹھی میں جکڑ لی۔ نہ کسی سرحد پر جھڑپ ہوتی ہے نہ کہیں سے مداخلت، نہ ہی تقسیم ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی نئی آبادکاری لیکن خندقوں میں محصورمضبوط قلعے بھی آناً فاناً فتح ہو جاتے ہیں۔
تحلیل کی تمام تر صورتوں میں سب سے خوفناک وہ تحلیل ہے جس لمحے کوئی وجود پر شب خون مار تا ہے۔ وجود کے ارد گرد دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں، تمام رابطے منقطع ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں من کا سندر بن تھل کی ویرانی کا پتہ دینے لگتا ہے۔ چشم رواں کے مرثیے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں اور وحشت میں دیوار وں پہ سر مار کے بھی وجود لا حاصل ہی رہ جاتا ہے۔ بالآخراس تحلیل، اس تغیر سے دردناک جمود جنم لیتا ہے، لہو رنگ سیاہ، تحریک کی موت ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔
تحلیل کی تمام تر صورتوں میں سب سے خوفناک وہ تحلیل ہے جس لمحے کوئی وجود پر شب خون مار تا ہے۔ وجود کے ارد گرد دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں، تمام رابطے منقطع ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں من کا سندر بن تھل کی ویرانی کا پتہ دینے لگتا ہے۔ چشم رواں کے مرثیے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں اور وحشت میں دیوار وں پہ سر مار کے بھی وجود لا حاصل ہی رہ جاتا ہے۔ بالآخراس تحلیل، اس تغیر سے دردناک جمود جنم لیتا ہے، لہو رنگ سیاہ، تحریک کی موت ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔
Comments
Post a Comment