Posts

Showing posts from March, 2014

’’خاکم بدہن‘‘ از’’مشتاق احمد یوسفی‘‘

’’خاکم بدہن‘‘ از’’مشتاق احمد یوسفی‘‘ سوانح حیات مشتاق احمد یوسفی ایک بلند پایہ طنز و مزاح نگار ہیں۔وہ 4 اگست 1923 میں راجھستان کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم راجپوتانہ سے حاصل کی۔آگرہ یونیورسٹی سے بی اے اور علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے فلسفہ اور ایل ایل بی ڈگری لی۔تقسیم کے بعد ان کا خاندان کراچی میں سکونت پذیر ہوا۔1950 میں مسلم کمرشل بینک میں تعینات ہوئے اور ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے تک پہنچے۔1965 میں الائیڈ بینک بطور مینیجنگ ڈائریکٹر جوائن کیا۔1974 میں یونائیٹڈ بینک کے صدر بنے۔1977 میں پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئر مین بنے۔آجکل لندن میں قیام پذیر ہیں۔اپنی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلی ادبی ایوارڈز،ستارہ امتیاز اورہلال امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔ فن یوسفی: اگر مزاحی ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کر سکتے ہیں تو وہ یوسفی ہی کا نام ہے۔طنز و مزاح نے تو مشتاق یوسفی کی تحریروں میں انتہائی عروج کی منزل طے کر لی جو شاید اردو ادب کو میسر ہو سکتی تھی۔ یوسفی کی رسائی اردو نثر کی معراج تک ہوئی ہے۔ یہ معراج نثرنگاری کی معراج بھی ہے اور طنز و مزاح کی معراج...
سجدہ  شکر  کریں  گے  سر کٹا  دیں گے جب ترے شہر دو آراء سے راہگزر ہو گا جاگ اٹھے گی نئی صبح  شہر بسمل  میں  منصف وقت سے حاکم  نہ در گذر  ہو  گا                                (عمیر احمد رانا)
جن  کو  خوابوں  کی  دہلیز  پہ  دیکھا  تھا کبھی  اب   حقیقت  میں  نظر  آئیں  تو  ڈر  جاتا  ہوں دشت میں بکھرے تری یاد کے ذروں سے کبھی اب جو گھر جائوں تو پھر لوٹ کے گھر جاتا ہوں زندگی دھوپ تھی، برسات تھی، ست رنگی تھی اب جو سوچوں میں یہ منظر، تو بکھر جاتا ہوں زندگی  گمشدہ   راہبر   کی   طرح   لگتی   ہے جانے  کس  رخ  سے  اترا اور  کدھر جاتا ہوں تجھ   سے  وابستہ   تعلق  کو   نبھانے   کیلئے تیری  یادوں   کے  سمندر  میں  اتر  جاتا  ہوں یہ تیرے ہجر کے صدموں  کا سبب  ہے جاناں زندہ   رہنے   کیلئے  روز  ہی   مر  جاتا  ہوں (عمیر احمد رانا)
لفظ   کے  ماتمی   پیراہن   میں  حرف  کیوں  ہولیاں مناتے  ہیں قید  کر  کے  طبعا  آزاد  پنچھی حریت  کا  سبق  سکھاتے   ہیں کر کے مضروب شرف آدم  کو حجر اسود پہ سر جھکاتے  ہیں شب غم نالہ  و  شیون  کر  کے یوم وصل،خواب کر بیتاتے ہیں فرض کی مفلسی میں جیتے ہیں اپنا حق ، محل  کر  سناتے  ہیں دین  کو  گھر  کی  بنا کر باندی حور   پہ   ملکیت   جتاتے  ہیں منبر   علم   پہ  کھڑے   ہو   کر انا الحق ، دار  پہ  چڑھاتے  ہیں رمز باری، رنگ عالم، یہ تحیر لوٹیے کوچ کا راستہ بناتے ہیں (عمیر احمد رانا)

   ہو بھی سکتے ہیں ۔ ۔ ہر گھڑی وصل  کی  آغوش  میں  جینے  والے عشق کے فیض سے محروم ہو بھی سکتے ہیں ان  کی   چوکھٹ   پہ   مقدر  کا  کاسہ   پکڑے در کی دھتکار سے مخدوم  ہو بھی  سکتے  ہیں زمیں  پہ  جن  کے  رواجوں  کا سکہ رائج ہے میزان  عرش  میں  معدوم  ہو  بھی  سکتے ہیں وفا   کے   نام   پہ   شب   خون   مارنے   والو یہ   راز  خلق  کو  معلوم  ہو  بھی  سکتے  ہیں زبان  خلق  پہ   تالے  پڑے  تو  کیا  رنج   ہے نقارے غیض کے مرقوم  ہو  بھی  سکتے  ہیں جو شب گزیدگی کے  سحر  میں  رہے  مخمور ردائے  سحر  میں  مغموم  ہو  بھی سکتے  ہیں جو   زیر   سایہ   علم   جدل   میں   رہتے  ہیں غنم  کے  مال  پہ ...