’’خاکم بدہن‘‘ از’’مشتاق احمد یوسفی‘‘

’’خاکم بدہن‘‘ از’’مشتاق احمد یوسفی‘‘

سوانح حیات
مشتاق احمد یوسفی ایک بلند پایہ طنز و مزاح نگار ہیں۔وہ 4 اگست 1923 میں راجھستان کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم راجپوتانہ سے حاصل کی۔آگرہ یونیورسٹی سے بی اے اور علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے فلسفہ اور ایل ایل بی ڈگری لی۔تقسیم کے بعد ان کا خاندان کراچی میں سکونت پذیر ہوا۔1950 میں مسلم کمرشل بینک میں تعینات ہوئے اور ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے تک پہنچے۔1965 میں الائیڈ بینک بطور مینیجنگ ڈائریکٹر جوائن کیا۔1974 میں یونائیٹڈ بینک کے صدر بنے۔1977 میں پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئر مین بنے۔آجکل لندن میں قیام پذیر ہیں۔اپنی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلی ادبی ایوارڈز،ستارہ امتیاز اورہلال امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔
فن یوسفی:
اگر مزاحی ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کر سکتے ہیں تو وہ یوسفی ہی کا نام ہے۔طنز و مزاح نے تو مشتاق یوسفی کی تحریروں میں انتہائی عروج کی منزل طے کر لی جو شاید اردو ادب کو میسر ہو سکتی تھی۔ یوسفی کی رسائی اردو نثر کی معراج تک ہوئی ہے۔ یہ معراج نثرنگاری کی معراج بھی ہے اور طنز و مزاح کی معراج بھی ۔ اسے عالمی ادب کے سامنے فخر و انبساط سے پیش کیا جا سکتا ہے۔
ہمہ جہتی نداز یعنی ذرا سی بات میں ہزاروں نت نئے پہلو پیدا کرنا اور اس کے ذریعے ہر سمت میں تخیل کے دروازے کھولناعہدِ جدید کی سب سے بڑی دین ہے اور یہی کیفیت مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کی ہے جنہیں صرف مزاح نگاری کے ضمن میں رکھ کر فراموش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں آگہی اور بصیرت ہی نہیں بلکہ ادبی اسلوب کی رمز شناسی اور تہہ داری بھی موجود ہے۔مزاح نگار کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ ہنسی ہنسی میں اس طرح کہہ جاتا ہے کہ سننے والے کو بھی بہت بعد میں خبر ہوتی ہے۔ یہی خوبی مشتاق احمد یوسفی کے ادب میں بکثر ت پڑھنے کو ملتی ہے۔مشتاق احمد یوسفی کے ادبی مزاح کے بارے میں بڑے بڑے ادیبوں کے تاثرات ملاحظہ ہوں
بھارت کے معروف اردو محقق اور نقاد ڈاکٹر محمد حسن یوسفی کے بارے میں لکھتے ہیں ،
’’یوسفی کی جس ادا پر میں بطورِ خاص فریفتہ ہوں ، وہ ہے اس کی اتھاہ محبت۔ یوسفی اپنے کھیت میں نفرت ، کدورت یا دشمنی کا بیج بوتا ہی نہیں۔۔۔۔‘‘۔
اردو کے ممتاز مزاح نگاراور شاعرسید ضمیر جعفری کہتے ہیں کہ ،
’’یوسفی دور مار توپ ہیں۔ مگر اس توپ کا گولہ بھی کسی نہ کسی سماجی برائی پر جا کر پڑتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ کشتوں کے پشتے نہیں لگاتے۔ خود زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتے ہیں‘‘۔
بھارت سے ہی تعلق رکھنے والے اردو کے ایک بڑے محقق اور ادیب ڈاکٹر نورالحسن نقوی لکھتے ہیں کہ ،
’’یوسفی کی تحریروں کا مطالعہ کرنے والا پڑھتے پڑھتے سوچنے لگتا ہے اور ہنستے ہنستے اچانک چْپ ہو جاتا ہے۔ اکثر اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں‘‘۔
اردو کے معروف لکھاری ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے تو انکی ذات کو جامع انداز میں مختصر سے جملے میں ہی بیان کر دیا، کہتے ہیں،
’’ہم اردو مزاح کے عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں‘‘۔
ابن انشاء کے بعد مشتاق احمد یوسفی کو اردو ادب کا ممتاز اور سب سے بڑا مزاح نگار خیال کیا جاتا ہے۔ 

خاکم بدہن (میرے منہ میں خاک)(DUST IN MY MOUTH)
خاکم بدہن مشتاق احمد یوسفی کی دوسری کتاب ہے جو انہوں نے 1969میں شائع کروائی۔ کتاب کا انتساب اپنی زوجہ ’’ادریس فاطمہ‘‘ کے نام لکھا ہے۔ کتاب کا دیباچہ مشتاق یوسفی نے خود لکھا ہے۔ کتاب کے مجموعی طور پر آٹھ حصے ہیں اور اب تک اسکے چودہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
آدم جی ایوارڈ یافتہ کتاب خاکم بدہن یوسفی کی سب سے بہترین کتاب ہے۔ یوسفی نے خاکم بد ہن کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’حس مزاح انسان کی چھٹی حس ہے ، یہ ہو تو انسان ہر مقام سے آسان گذر جاتا ہے‘‘، خاکم بدہن بھی قاری اور اسکی تلخیوں کے درمیان ایک قہقہے کی مانند کھڑی ہو جاتی ہے۔ یوسفی نے کتاب کے نو حصوں میں جتنا مزاح بھر دیا ہے ممکن نہیں کہ کوئی اور بھر سکے۔
عکس بندی 
مزاح نگاری میں صورتحال کی لفظی عکس بندی میں انکا ثانی شازو نادر ہی نظر آئے۔سنجیدہ سے سنجیدہ صورتحال کو مزاح کے پہلو میں ڈھال کر یوں بیان کرتے ہیں کہ ستم ظریفی پر ہنسے بناء نہ رہا جائے۔ماحول میں موجود کرداروں کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں کہ پڑھنے والا اسے اپنی آنکھوں کے سامنے برپا محسوس کرتا ہے ۔انسانی کردار، عادات و اطوار، خصلتیں ، پسند و ناپسند، نظریات اور دو متضاد چیزوں کے امتزاج کے برش کو یوسفی مزاح کے رنگوں میں ڈبو کر قاری کے ذہن کے کینوس پریوں بکھیرتے ہیں کہ پڑھنے والا انہیں علم البشر کا ماہر سمجھے بناء نہ رہ سکے۔بھلے سے بھلے لمحہ فکریہ پر بھی یوسفی کی تحریریں پہلے گدگدانے اور پھر تاسف پر مجبور کرتی ہیں اور یہی فن انکا طرہ امتیاز ہے۔عکس بندی کے دوران اکثر صورتحال کے پس منظر میں ایسے فقرہ جست کر دیتے ہیں گویا اس کا صحیح مقام ہی یہی ہو۔کتاب کے ایک مضمون میں کتے کے مالک کی اس سے محبت اور کتے کے بے ضرر ہونے کو بیان کرتے ہوئے یوسفی لکھتے ہیں،’’کتے کی تخلیق کا واحد مقصد یہ تھا کہ پطرس اس پر ایک لا جواب مضمون لکھے۔سو یہ مقصد عرصہ ہوا پورا ہو چکا، اب اس نسل کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔
خاکم بدہن میں مشتاق احمد یوسفی کا ہر مضمون عام آدمی کا ایسا خاکہ ہے جس میں کروڑوں انسانوں ہی کی نہیں بلکہ پوری تہذیب اور ثقافت کی تصویر ملتی ہے۔یوسفی صاحب کو نفسیاتِ انسانی اور جذباتِ انسانی کا مکمل شعور ہے ، اس لیے جب وہ کسی کردار کو پیش کرتے ہیں تو ہر شخص کو اس میں اپنا عکس ضرور دکھائی دیتا ہے۔
مزاح نہ لطیفہ گوئی ہے ، نہ تضحیک نہ طنز۔ مزاح وہی مزاح ہے جو بظاہر تو ہلکی پھلکی لطافت اور ظرافت میں ڈوبی تحریر لگے لیکن قاری کو لطیفے پر قہقہہ لگا کر بھول جانے کے بجائے یکلخت اس تحریر کی گہرائی میں جا کر سنجیدگی سے اپنے آپ کا جائزہ لینے پر مجبور کر دے۔ ردِّ عمل بجلی کی چمک کی طرح ذہن میں اس طرح کوندے کہ اسے لگے کہ کسی نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔خاکم بدہن مزاح، اور مزاح کے پہلو میں چھپے اس ہاتھ کی بہترین مثال ہے جو یوسفی بارہا قارئین کی دکھتی رگوں پر رکھتے ہیں۔
تشبیہات اور ستعاروں کا استعمال
یوسفی کے مزاح میں تشبیہات اور استعاروں کا منفرد طرز استعمال انہیں دوسرے لکھاریوں سے ممتاز رکھتا ہے۔ صورتحال کی عکس بندی میں طنز کا پہلو کچھ یوں بیان کر جاتے ہیں کہ قاری کھلکھلائے بناء نہ رہ سکے، ، صفحہ نمبر آٹھ پر یوسفی بیان کرتے ہیں،’’یار اگر عام پسند کی بھی دو چار کتابیں رکھ لیتے تو گاہک دکان سے اس طرح نہ جاتے جیسے سکندر دنیا سے گیا تھا۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ خالی‘‘۔ ایک اور جگہ پر غالب کی کتابیں نہ بکنے کی وجہ کتابوں کے تاجر(مرزا)کی زبان میں یوں بیان کرتے ہیں، ’’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دیوان غالب دکان میں مہینوں پڑا رہا۔محض اس وجہ سے کہ انکا خیال تھا کہ دکان اسکے بغیر سونی سونی معلوم ہو گی۔مرزا کہا کرتے تھے کہ انکی مثال اس بدنصیب قصاب کی سی ہے ۔جسے بکروں سے عشق ہو جائے‘‘۔انہی موصوف مرزا صاحب کی دکان کے سامنے سے گذرتی ایک خاتون کا احوال ملبوس کچھ یوں تشبیح میں ڈھالتے ہیں ’’چینی قمیض اسکے بدن پر چست فقرے کی طرح کسی ہوئی تھی‘‘، کڑی کمان کے تیر کی چال والی اس قتالہ عالم خاتون کے پیچھے چلنے والے لڑکے بالوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ،’’ان ناخوانندگان کی طرف اشارہ کیا جو ایک فرلانگ سے اسکے پیچھے پیچھے فہرست مضامین کا مطالعہ کرتے چلے آ رہے تھے‘‘ ۔ کاروبار میں خسارے کی صورتحال کو استعارا بیان کرتے ہوئے یوسفی فرماتے ہیں ،’’تجارت کو انہوں نے وسیلہ معاش نہیں ، حیلہ جہاد سمجھااوربہت جلد شہادت کا درجہ پایا‘‘۔انگریز مالک رخصت ہونے لگا تو جاتے ہوئے اعلی نسل کاکتا یادگار کے طورپر تحفے میں دینے لگا تو ، صاحب مشکور کی حالت کو بیان کرتے ہوئے یوسفی کہتے ہیں ،’’اس سے بہتر کوئی یادگار نہیں ہو سکتی کہ جب بھی وہ بھونکے گا، افسرکی یاد تازہ ہوجایا کرے گی‘‘۔
بہترین مزاح وہ ہوتا ہے جو ہر لفظ پر چونکا دینے اور ٹھہر کے مسکرانے یا قہقہہ لگانے پرمجبور کر دے۔مشتاق احمد یوسفی مزاح نگاری کی صنف میں ایک ایسے نئے فارمولے سے ظاہر ہوتے ہیں جو ان سے پہلے شاید ہی کسی نے دریافت کیا ہو ۔یوسفی مزاح نگاری میں رخ تجسس کو بحال رکھنا ، حس مزاح کی روح کا خاصہ گردانتے ہیں۔ جملوں کی نقش نگاری میں الفاط کے رنگ یوں بکھیرتے ہیں ، کہ نصف جملے تک سمجھ آنے والا مفہوم تکمیل پر یکسر الگ ہوتاہے، گویا ابن صفی اور پطرس کی خوب آمیزش کی گئی ہو۔ ایک جگہ لکھتے ہوئے اس صورتحال کی یوں عکاسی کرتے ہیں ، ’’میرن صاحب کا قصہ بھول گئے؟کسی نے انکے سامنے غالب کا شعر غلط پڑھ دیا۔تیوریاں چڑھا کر بولے،میاں ! یہ کوئی قرآن و حدیث ہے! جیسے چاہا ،پڑھ دیا‘‘۔ٹھیک ایسے ہی ایک اور جگہ کہتے ہیں ،’’جوانی میں خدا کے قائل نہیں تھے، مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، ایمان پختہ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اب وہ اپنی تمام تر نالائقیوں کو منجانب اللہ سمجھنے لگے تھے‘‘۔حس تجسس اور مزاح سے بھرپور انکا یہی اچھوتا پن چند اور جملوں میں یوں عیاں ہوتاہے، ’’ایک دفعہ برادران وطن کی ناقدریک ا گلہ کرتے ہوئے فرمایا۔آپ کے ہاں تو ابھی تک جہالت کی خرابیاں دور کرنے پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں، مگر ترقی یافتہ ممالک میں تومارا اب ایسی کتابیں لکھی جا رہی ہیں، جن کا مقصد ان خرابیوں کو دور کرنا ہے جو محض جہالت دور ہونیکی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں‘‘۔
خاکم بدہن ،معاشرہ اور یوسفی آئینہ 
معاشرتی پہلوؤں کا بغورمشاہدہ اور ان پر بطریق احسن طنز کی طبع آزمائی بھی یوسفی کا کمال خاصہ ہے۔ معاشرتی برائیوں کو طنز کی زدمیں لاتے ہیں تودلچسپ پہلوؤں پر گدگداتے فقرے جست کرکے حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔بدلتے مشترکہ انسانی رویوں کونشتر مزاح پر اس شائستگی سے رکھتے ہیں کہ انکی بات پر مسکرائے اور اثبات میں سر ہلائے بغیر رہا نہ جائے، درد کا احساس تھوڑے وقفے سے ہو،جیسے لکھتے ہیں،’’بیسویں صدی میں جیت انہی کی ہے جن کے ایک ہاتھ میں دین ہے اور دوسرے میں دنیا۔ اور دائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ بائیں میں کیا ہے‘‘۔ ایک جگہ کہتے ہیں، ’’ہمارے ہیرو کو اسلامی ناولوں کے جوشیلے مکالمے حفط ہو گئے تھے اوربغدادی جم خانے میں کبھی دیسی وہسکی کی زیادتی سے موصوف پر ہذیانی کیفیت طاری ہو جاتی تو دشمنان اسلام پر گھونسے تان تان کر تڑاق پڑاق ایسے ڈائیلا گ بولتے ، جن سے شوق شہادت اس طرح ٹپکا کرتا تھا کہ بیروں تک کا ایمان تازہ ہو جاتا ‘‘۔سیاسی پہلوؤں پر سوز وگداز سے اجتناب کی وجہ بیان کرتے ہوئے یوسفی کس مہارت سے چوٹ کرتے ہیں، ملاحظہ ہو، ’’طعن وتشنیع سے اگر دوسروں کی اصلاح ہو جاتی تو بارود ایجاد کرنیکی ضرورت پیش نہ آتی‘‘۔ مغربی اور مشرقی معاشروں میں کتاب بینی کے شوق پر ضرب لگاتے ہوئے کہتے ہیں،’’آپ کے ہاں یہ کیفیت ہے کہ نوجوان اسوقت تک ارد و کی کوئی کتاب پڑھنے کی حاجت محسوس نہیں کرتے ،جب تک پولیس اسے فحش قرار نہ دے دے، اور فحش قرار دینے کے بعد تو اسے بیچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔اسی کے تسلسل میں معاشرتی بے حسی پر یوسفی نے کیا خوب انداز میں طنز کے تیر چلائے ، لکھتے ہیں،’’اگر ایک پوری کی پوری نسل کو ہمیشہ کیلئے کسی اچھی کتاب سے بیزار کرنا ہو تو سیدھی ترکیب یہ ہے کہ اسے نصاب میں داخل کروا دیجئے‘‘۔بدلتے زمانے کیساتھ ادب کی جانب بدلتی عوامی ترجیحات پر یوسفی یوں نوحہ کناں ہوتے ہیں،’’آج کل لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ادب ایک کیپسول میں بند کر کے انکے حوالے کر دیا جائے ،جسے وہ
کوکا کولا کے گھونٹ کیساتھ غٹک سے گلے میں اتار لیں‘‘۔ایک جگہ ضرب کاری کرتے ہیں ،’’آپ نے سنا نہیں کہ نسلا ایک زمانے میں سب کتے بھیڑیے تھے؟ آدمی کی صحبت میں انکا بھیڑیا پن جاتا رہا۔مگر خود آدمی۔۔۔۔‘‘۔مزاح ہو اور بالخصوص مشرقی مزاح تو عورتوں کو اسکا شکارکئے بغیر تحریریں پھیکی معلوم پڑتی ہیں۔ خواتین کی عمر ہمیشہ سے ہی مردوں کا بہترین مضمون رہی ہیں کیونکہ انہیں اسکا جواب کبھی معلوم نہیں پڑسکا، تاہم یوسفی عورتوں کی عمر کا فرق معلوم نہ ہونے کو نظر کے فریب سے عبارت کر کے ، تشنگی بھی کر جاتے ہیں اور اسکے پس پردہ پوشیدہ طنز و مزاح کا ہتھیار بھی بخوبی چلا جاتے ہیں ۔معاشرے کے خواتین کے مقبول عام خبط کو وہ یوں زد میں لاتے ہیں، 
’’یورپ کی اور ہماری خواتین میں بڑا فرق ہے۔ یورپ میں جو لڑکی دور سے سترہ برس کی معلوم ہوتی ہے وہ قریب پہنچ کر ستر برس کی نکلتی ہے اور ہمارے ہاں جو خاتون دور سے ستر برس کی دکھلائی پڑتی ہے وہ نزدیک آنے پر سترہ برس کی نکلتی ہے۔ مگر یہ وضع داری انگلستان میں ہی دیکھی کہ جو عمر دور سے نظر آتی ہے وہی پاس...‘‘
خاکم بدہن میں جب ہم مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مشتاق احمد یوسفی مزاح کی معراج پر ہیں !جو تحریریں مزاح کے اس معیار پر پورا نہیں اترتیں وہ پھکڑ پن ، لطیفوں ، پھبکیوں اور فقرہ بازیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان میں طنز ، تحقیر ، تضحیک ، رکیک وغیرہ تو ہوتا ہے ، مزاح پیدا نہیں ہو سکتا۔یوسفی صاحب کے فن کا کمال یہ ہے کہ وہ طنز یا تحقیر نہیں برتتے۔ یوں بھی جہاں مزاح بھرپور ہو وہاں طنز کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ پختہ مزاح بذاتِ خود بہت بڑا طنز ہے جو معاشرے کی ہر بے راہ روی کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ لیکن عہدِ حاضر میں اس حقیقی فن کا فقدان ہے۔
جیسا کہ خاکم بدہن میں یوسفی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں :
\"اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہنسنا اور کھانا آتا ہے۔ اسی وجہ سے پچھلے سو برس سے یہ فن ترقی نہ کر سکا\"۔
حفیظ میرٹھی نے شاید مزاح یوسفی کے بارے میں ہی لکھا تھا ،کہتے ہیں کہ :
نہ ہو حیراں میرے قہقہوں پر ، مہرباں میرے !
فقط ! فریاد کا معیار اونچا کر لیا میں نے
مزاح وہی ہے جو قہقہوں یا مسکراہٹ کے پس پردہ ہو۔ یوسفی صاحب طنز کو شامل کر کے مضمون کو خشکی اور کڑواہٹ سے دور رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ :
اگر طعن و تشنیع سے مسئلے حل ہو جاتے تو بارود ایجاد نہ ہوتی !
چونکہ مزاح کے میدان میں اکثریت ان ادیبوں کی ہے جو طنز کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں اس لیے مزاح کی اہمیت و
افادیت سے قارئین کی اکثریت اب بھی ناواقف ہے۔
عصر حاضر کا عظیم ترین صاحبِ اسلوب نثرنگار ان دنوں لندن میں مقیم ہے۔ اردو نثر نے ایسے معجزے کم دیکھے ہیں۔نسل نو انکی کوئی کتاب ہاتھ میں پکڑ بھی لے تو اسکے لبوں پر وہ شگفتگی کے تاثرات نہیں دیکھے جا سکتے، جو یوسفی کا مزاح طلب کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یوسفی کا اسلوب دور حاضر کے قارئین کی سمجھ سے بالا تر، ماورائی ادب کا عکاس ہے ، دراصل عدم موجودگی اس ماحول کی ہے جس میں یوسفی کا مزاح قارئین کے ازہان کے تاریک کونوں کو جلا بخشتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

’’ حتمی معر کہ ‘‘