مسیح منتظر میرے
میرے بے کیف لمحوں میں مسیح منتظر بن کے رحم کرنا، پلٹ آنا میرے بے فیض ہونٹوں کو سبیلِ لب سے تر کر کے دوا دینا بتا دینا ! جب آنکھیں زرد ہو جائیں تمھاری دید کے قطروں کی آمیزش میں ان پتھروں پہ رکھ دوں گا میرے دل پر کسی بھی بوجھ کے آثار دیکھو تو مسیح میرے ! شِفا کے ہاتھ رکھ دینا وفا مٹھی میں کر لینا سنو ! گر ضبط کی ہچکی میرے لفظوں پہ بندھ باندھے تو میرے ہونٹ پہ لکھے لاحاصل مرثیے پڑھنا سنو میرے مسیح منتظر ! وجود مضطرب کی ٹھنڈ تمھاری ذات میں اترے تو ہنس دینا یہ کہہ دینا مسیح میرے وفائیں گنگناتی ہیں تو نوحے رقص کرتے ہیں