بیچارے ، ، ، غم کے مارے،،،، رن مرید

تخلیق: عمیر احمد رانا
. . . کہتے ہیں کہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اسکی ساخت میں دباؤ کے خلاف مزاحمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ عورت کو سیدھا نہیں کیا جا سکتا ، ذیادہ زور لگا تو یہ ٹوٹ جائے گی۔ پسلی سے نکلی یہ مخلوق جسے ادبی زبان میں صنف نازک، النصف الجمیل اور پتہ نہیں کس کس دیومالائی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ، اگر ویسے ہی سیدھی ہو جائے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بندے کے روئیں روئیں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں۔طوعاً و کرھاًبندہ وہ کرنے لگ جاتا ہے جسکا حکم اسکی نصف الجمیل صادر فرماتی ہے یا ہماری زبان میں کہیے تو بیچارہ، غم کا مارا’’لائی لگ ‘‘بن جاتا ہے۔ویسے مردوں پر یہ ظلم کوئی آج کے زمانے کی اختراع نہیں ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ عور ت ایک دم جاگی اور اس نے آن ہی آن میں سب کچھ تہ دست کر لیا۔ یہ افسانہ تو باوا آدم کے زمانے سے چل رہا ہے ۔ ایسا کہیں تو قدرے بہتر ہو گا کہ مردوں میں لائی لگ ہونے کی بیماری جینیاتی ہے جو انہیں اپنے جد امجد سے ملی ہے۔ بھلا ! کیا ہو جاتا اگر باوا آدم اماں حوا کی باتوں میں آنے کے بجائے شجر ممنوعہ کاپھل کھانے سے دستبردار ہو جاتے۔اور چلو کھا بھی لیا، ،صد حیف کہ بیٹوں کو باپ کا انجام دیکھ کر بھی عقل نہیں آئی۔
اکبر اللہ آبادی نے ذو معنویت سے کام لیتے ہوئے شاید اسی تناظر میں کہا تھا،
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ ، وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اور باپ نے غلطی کر کے معافی مانگ بھی لی، بیٹو کو دیکھیے، اپنے لائی لگ ہونے کے مرض کو لوح محفوظ پہ لکھے سے تعبیر کر کے بیگم کے گھٹنوں کو جا لگتے ہیں۔ محلے میں مقبول کسی بھی رن مرید سے اس بیماری بارے استفسار کر کے دیکھ لیجئے، فٹ سے منہ کھول کے کہے گا، بھئی اب باپ کے قرض اولاد نہیں چکائے تو کیا پڑوسی چکائیں گے، ابا حضور، باوا آدم کے اعمال کی خمیازہ بھگت رہے ہیں۔یہی نہیں ڈنکے کی چوٹ پر مثال بھی دے گا کہ جناب دنیا کا طاقتور ترین آدمی امریکی صدر باراک اوباما بھی تو لائی لگ ہے۔اسکے علاوہ بھی سینکڑوں مثالیں مل جائیں گی۔اب ہمارے ماموں جان کو ہی لے لیجئے ، پچیس سال سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلارہے، ٹی وی اور اخبارکے سگریٹ مخالف اشتہارات سے لیکر نانا جان کی دھمکیاں تک انہیں سگریٹ نوشی ترک کرنے پر مجبور نہ کر سکیں لیکن اب نجانے انکے دماغ میں یہ بات کیسے سمائی کہ سگریٹ سے ذیادہ مضر صحت بھی ایک اور چیز ہے ۔ جھٹ سے سگریٹ چھوڑ دی۔ اور چھوڑتے بھی کیوں نہ، سگریٹ سے صرف پھیپھڑوں کا نقصان ہوتا ، لیکن بیوی۔ ۔ بھئی ! جان ہے تو جہان ہے۔ ۔
میرے ایک کنوارے دوست ، گذشتہ کئی برسوں سے خواتین کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نفسیات نسواں پر انکی نظر اسقدر عمیق ہے کہ عورت کی پرچھائی دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ موصوفہ کا تعلق کس برج سے ہے۔ مزاج کے بہت شریف پائے گئے ہیں، راہ چلتی خواتین کے چہرے کی جانب دیکھنا گناہ کبیرہ تصور کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی پری پیکر کے پاؤں غور سے نہ دیکھیں۔انکا ماننا ہے کہ عورت کی نفسیات چہرے سے ذیادہ پاؤں کے مطالعہ سے معلوم کی جا سکتی ہے۔یہی مطالعاتی عادت انکی شادی میں تاخیر کا باعث بھی بنی ہوئی ہے۔ رشتہ جونہی طے ہونے کو آتا ہے۔انوکھا لاڈلا،لڑکی کے پاؤں کی تصویر دیکھنے کا مطالبہ کر سامنے رکھ دیتا ہے، ردعمل میں درجن بھر سے زائد لڑکی والے تو سر پہ پاؤں رکھ کر بھاگ ہی چکے ہیں ۔ ۔
گذشتہ نشست میں ان سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ کیسے معلوم ہو کہ یہ عورت میاں جی کی داسی بن کے رہے گی یا موصوف کو رن مرید بنا کے رکھ دے گی ۔ میری سوالیہ نشان کے سانچے میں ڈھلی شکل پر نظر دوڑاتے ہوئے صاحب نے سگریٹ ایشٹرے میں رکھی اور ایک فلسفیانہ قسم کی انگڑائی لیتے ہوئے گویا ہوئے کہ بھائی اس میں کیا مشکل ہے، جس عورت کے پاؤں کے تلوے میں خم ہو ،سمجھ لو وہ حسینہ رن مریدوں کی شکاری ہے اور جس عورت کے پاؤں چپٹے ہوں وہ پیا جی کی داسی، ، یہ الگ بات ہے کہ دوسری قسم والی خواتین کی نسل دنیا سے ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ جب تک مردوں کی گردنیں سلامت ہیں، ، عورتوں کے پاؤں کے تلوے خمدار تو رہیں گے۔ آسان زبان میں کہو تو آجکل فقط خمدار پاؤں والی عورتیں ہی بچی ہیں اور جو صفر اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد چپٹے تلوے والی عورتیں ہیں ، ، انکے مردوں کی رن مریدی کی عادت انہیں مردپال بنا دیتی ہے۔اور یہ تو ویسے بھی قانون فطرت ہے کہ بھاری تو فقط عورت کا ہی پاؤں ہو سکتا ہے۔
جدید دنیا کی شادی شدہ نامور شخصیات سے پوچھا جائے کہ آپکی کامیابی میں کس کا ہاتھ ہے تو فورا سے آہ نکلتی ہے،’’ظالم عورت‘‘۔جناب والا، ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ تو سنا تھا، یہ ظالم عورت کا کیا ماجرا ہے۔ مظلوموں کا یہ ٹولا بغیر کسی وضاحت کے پھٹ پڑتا ہے کہ بھئی نہ یہ چنگیزیت انکے گھروں پر نازل ہوتی ، نہ یہ گھر سے فرار کا راستہ اختیار کرتے اور نہ ہی رات کو گھر جانے کے خوف سے کام کام اور بس کام کے فلسفے پر عمل پیرا ہوتے، ، اور یقیناًنہ ہی اُنکا شمار کامیاب مردوں میں ہوتا۔اب دنیا کو کیا معلوم کہ بیچارے یہ مرد، کام ، کام اور کام کے بعد بچے کھچے وقت جب گھر وں کو لوٹتے ہیں تو وہاں بھی اُنہیں کام ہی کرنا پڑتا ہے۔اچھی بات تو یہ ہے کہ مردوں کی اس مخصوص قسم میں سے جتنے بھی لوگوں نے اب تک اپنی خود نوشت تحریر فرمائی ہے ، کسی نے بھی اپنی عائلی زندگی کے تلخ تجربات بیان نہیں کئے ، ورنہ شاید انہیں امن عامہ کی خرابی اور عوام میں خوف پیدا کرنے پر سنگین مقدمات کا سامنا کرنا پڑسکتاتھا۔ گو کہ خلق خدا سے لیکر قانونی اداروں میں بیٹھے مرد اور منصف تک سبھی ان کڑوے تجربات کا ادراک رکھتے ہیں ، تاہم قانون کے احترام میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔ اور جو ایک فیصد زبان کھولنے کی کوشش کرتے ہیں ، ، انکے لئے تحریک تحفظ نسواں والے ہی کافی ہیں۔ اب یہ بحث طول پکڑلے گی کہ آیا اس تحریک کے سرکردہ مرد خوش نصیب ہیں یا مجبور؟ ؟
انہی مردوں میں ایک کلاس وہ بھی ہے جو بظاہر طاقتور دکھائی دیتی ہے اور جسے لگتا ہے کہ پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے ۔ یہ حضرات ہفتے میں چالیس سے ساٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں لیکن گھریلو معاملات کے کون، کب اور کیسے جیسے اہم سوالات کا تعین انکی بیگمات ہی کرتی ہیں۔ان مردوں کی کثیر تعدادماہانہ دس سے پندرہ لاکھ روپے کماتی ہے، جبکہ انکی بیگمات کچھ نہیں کرتیں سوائے خواتین کے حقوق کی این جی اوز چلانے اور کانفرنسز کے سلسلے میں بین الاقوامی دوراں کے، تاہم طاقت کی گھریلو غلام گردشوں میں انہیں کا سکہ رائج رہتا ہے۔ حتی کہ اس بات کا فیصلہ بھی یہی بیگمات کرتی ہیں کہ شوہر نامدار ہفتہ کے روز گالف کھیلنے جا سکتے ہیںیا نہیں اور اگر جا سکتے ہیں تو رات گیارہ سے پہلے گھر میں موجود ہوں۔ پابندی ’’اوقات‘‘کی لٹکتی تلوار ہی بنیادی وجہ ہے کہ یہ بیچارے کمزور اعصاب مرد گالف کے اچھے کھلاڑی نہیں بن پاتے اور گھر کی پچ سے لیکر گالف کورس تک دونوں میدانوں میں گھٹنوں کے بل گر جاتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ اس کلاس میں کوئی اچھا گالف کا کھلاڑی نہیں ہے، اچھے فقط وہی ہوتے ہیں جنہیں وقت کی ذیادہ مہلت مل جاتی ہے یا جنکی بیگمات ویک اینڈ پر پارٹی شارٹی کر رہی ہوتی ہیں۔
متوسط طبقے کے مرد کی تو بات ہی نہ کیجئے ، اسکی زندگی میں تبدیلی ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔ بیچارہ تمام عمر گھر میں موجود ادی، ماں، پھوپھی اور چاچی کی چیخ وپکار اور صوم صلوٰۃ سے تنگ آ کر تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے اور ایک ایسی عورت کا انتخاب کرتا ہے جو اس پر چیخنے سے پہلے اسکے دکھ سمجھ سکے، اسکو دکھوں کا مداوا کر سکے، ناکامی پر حوصلہ دے اور کامیابی پر شادماں ہو ۔ لیکن بیچارہ لاتا تو عورت ہی ہے، اسکی یہ خواہش دائمی حسرت میں اسوقت بدلتی   ہے جب گھر میں موجود چار گھاگھ قسم کی عورتیں نئی آنے والی کو بھی اپنے رنگ میں بدل لیتی ہیں۔ اور یوں تبدیلی گھریلو پنکچروں کی نذر ہو جاتی ہے۔لیکن خیر ! ہر ظلم کی رات انصاف پسند سحر پر ضرور منتج ہوتی ہے۔ ۔ ۔ آہ ! فریادِ غالب
؂ ابن مریم ہو ا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنون میں کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

Comments

Popular posts from this blog

’’خاکم بدہن‘‘ از’’مشتاق احمد یوسفی‘‘

’’ حتمی معر کہ ‘‘