بیچارے ، ، ، غم کے مارے،،،، رن مرید تخلیق: عمیر احمد رانا . . . کہتے ہیں کہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اسکی ساخت میں دباؤ کے خلاف مزاحمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ عورت کو سیدھا نہیں کیا جا سکتا ، ذیادہ زور لگا تو یہ ٹوٹ جائے گی۔ پسلی سے نکلی یہ مخلوق جسے ادبی زبان میں صنف نازک، النصف الجمیل اور پتہ نہیں کس کس دیومالائی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ، اگر ویسے ہی سیدھی ہو جائے تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بندے کے روئیں روئیں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں۔طوعاً و کرھاًبندہ وہ کرنے لگ جاتا ہے جسکا حکم اسکی نصف الجمیل صادر فرماتی ہے یا ہماری زبان میں کہیے تو بیچارہ، غم کا مارا’’لائی لگ ‘‘بن جاتا ہے۔ویسے مردوں پر یہ ظلم کوئی آج کے زمانے کی اختراع نہیں ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ عور ت ایک دم جاگی اور اس نے آن ہی آن میں سب کچھ تہ دست کر لیا۔ یہ افسانہ تو باوا آدم کے زمانے سے چل رہا ہے ۔ ایسا کہیں تو قدرے بہتر ہو گا کہ مردوں میں لائی لگ ہونے کی بیماری جینیاتی ہے جو انہیں اپنے جد امجد سے ملی ہے۔ بھلا ! کیا ہو جاتا اگر باوا آدم اماں حوا کی باتوں میں آن...
Posts
Showing posts from May, 2014
’’ حتمی معر کہ ‘‘
- Get link
- X
- Other Apps
اس پوری کائنات میں انسان سے بڑھ کر بے بس، شاید ہی کوئی اور مخلوق ہو۔ کس طرح چند ثانیوں میں کایا پلٹ جاتی ہے، کیسے تخت و تاج یکلخت کاسہ بن جاتے ہیں۔ ادائے بے نیازی، غروراور تکبرآن ہی آن میں راکھ ہو جاتے ہیں۔ توقع، تکیہ، فخراور مان اچانک خاک ہو جاتے ہیں۔ریشم و اطلس سے بُنے خواب یوں ریزہ ریزہ ہوتے ہیں کہ ۔۔۔حد گمان بھی بعید از دسترس معلوم پڑتی ہے۔ گوشت ، پوست اور ہڈیوں کے جال میں پوشیدہ انسان کا وجود مٹھی بھر لوتھڑے کے قدموں میں آ گرتا ہے۔ جگر سے نکلا آگ کا گولہ سینے سے ہوتا دل کے پہلو میں توقف کرتا ہے، جلن بے قابو ہو تی ہے تو یہی آتش گیر گولہ ذرا سا بلند ہو کر انسان کی حد ادراک کو چھونے کی کوشش کرتا ہے، برداشت کو امتحان میں ڈال کرشعور کا صبر اور حوصلہ کسوٹی پر رکھتا ہے۔ دباؤ بڑھتا ہے، ناقابل برداشت ہوتا ہے، ،،،نگاہیں فرار کے راستوں پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ سماعت اندر کے شور سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہے۔ بالآخر ! دل سے آہ نکلتی ہے، درد جیت جاتا ہے،صبر کو مات ہوتی ہے۔ رکو ! یہ طوفان، یہ زلزلہ، یہ شکست و ریخت کتنی ہی پراثر اور طالع مند کیوں نہ ہو، شعور کی زرہ اور اسکی بنیادیں ا...