Posts

Showing posts from June, 2014

بلا عنوان

حقیقت حال چاہے سماج کی ہو یا فرد کی،سب سے بڑا صدق یہ ہے کہ تغیر عالمی سچائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر قسم کی تبدیلی اسی سچائی کے حصار میں پنپتی ہے۔ اس بنیادی اصول سے بغاوت خود فریبی تو ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔نکتہ آموزی کیلئے تغیر کی اس رمز کی پرتیں کھولیں تو یوم معلوم پڑتا ہے کہ عمومی تغیر میں مزاج، رویے اور فکر و عمل میں تبدیلی آتی ہے۔ شروع شروع میں فلسفہ جمود بودا ہوتا ہے پھر وقت کی گرد تہہ در تہہ چڑھتی جاتی ہے اور تغیر کی کونپلیں کھل اٹھتی ہیں۔ ایک دوسرا تغیر بھی ہے جو فقط کہنے کو تغیر ہوتا ہے، در حقیقت اسے تحلیل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ ماورائی قسم کا تغیر ہے، جس میں نہ صرف مزاج، رویے اور فکر و عمل اپنی جگہ چھوڑ جاتے ہیں بلکہ وجود بھی وہاں نہیں رہتا جہاں آپ ہوتے ہیں یا رہنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے مادہ تحلیل ہوتے ہوتے ایسے چھوٹے چھوٹے اجزاء میں منتہٰی ہوتا ہے جو مزید تحلیل نہیں ہو سکتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان تحلیل کے عمل سے اسطرح گزرتا ہے کہ اپنے ہی وجود کی نفی کر دیتا ہے، سب کچھ آن ہی آن میں صفر درجے پر آ پہنچتا ہے۔یہاں سے آگے ذات کی تعمیر شروع ہوتی ہ...